ایک اسمارٹ فون جس کی اسکرین پر شیلڈ اور لاک کا نشان ہے، پس منظر میں سائبر سیکیورٹی کے آئیکنز
NCCIA آپ کی گیلری کی خفیہ نگرانی نہیں کر رہا۔ AI معاہدہ بچوں کے تحفظ کے لیے ہے۔ اصل خطرہ جعلی قرض ایپس ہیں۔

اسلام آباد (ویب ڈیسک) – گزشتہ چند ہفتوں سے پاکستان میں سوشل میڈیا پر ایک خوفناک افواہ گردش کر رہی ہے: "NCCIA آپ کے موبائل کی گیلری تک رسائی رکھتا ہے، آپ کی تصاویر دیکھ رہا ہے، اور آپ کی لوکیشن ٹریک کر رہا ہے، یہاں تک کہ AI کے ذریعے آپ کی واٹس ایپ چیٹس کی نگرانی کر رہا ہے۔” اس افواہ نے عام شہریوں میں شدید خوف پیدا کر دیا ہے، کچھ لوگ یہاں تک کہنے لگے ہیں کہ "اب فون پر کچھ بھی بات کرنے کی ہمت نہیں ہوتی”۔

لیکن سچ کیا ہے؟ کیا NCCIA واقعی ہر شہری کی نجی زندگی کی نگرانی کر رہا ہے؟ AI معاہدے کی حقیقت کیا ہے؟ آئیے حقائق کو سامنے رکھتے ہیں۔

افواہ کی جڑ: لاہور میں ایک حقیقی کیس

آپ نے جو "گیلری تک رسائی” اور "تصاویر سے بلیک میلنگ” کی باتیں سنی ہیں، ان کا تعلق ستمبر-اکتوبر 2026 میں لاہور میں NCCIA کے ایک حقیقی آپریشن سے ہے۔

NCCIA نے لاہور میں "Talk Master” نامی ایک غیر قانونی کال سینٹر پر چھاپہ مارا اور 39 افراد کو گرفتار کیا۔ یہ گروہ کئی جعلی قرض ایپس چلا رہا تھا (بشمول Aghar، Grow Fund، Cash Air وغیرہ)۔ جب شہری قرض لینے کے لیے یہ ایپس انسٹال کرتے، تو ایپس صارف کی اجازت حاصل کر کے موبائل کی گیلری اور رابطہ فہرست تک رسائی حاصل کر لیتیں۔ پھر مجرم AI کا استعمال کرتے ہوئے تصاویر کو بے حیائی والی تصاویر میں تبدیل کر دیتے اور متاثرہ شخص کو بلیک میل کرتے۔

اہم نکتہ: یہ سب مجرم کر رہے تھے۔ NCCIA نے انہیں پکڑا ہے، وہ خود یہ کام نہیں کر رہا۔

MoU کی حقیقت: AI کس کے لیے ہے؟

"NCCIA نے AI کے ذریعے ہر کسی کی چیٹ کی نگرانی کے لیے کسی ادارے کے ساتھ معاہدہ کیا ہے” — یہ افواہ سب سے زیادہ خوفزدہ کرنے والی ہے، لیکن یہ سب سے زیادہ غلط فہمی کا شکار بھی ہے۔

حقیقت یہ ہے: NCCIA نے واقعی بین الاقوامی AI اداروں کے ساتھ تعاون کے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں، لیکن یہ معاہدے واضح طور پر آن لائن بچوں کے جنسی استحصال اور استحصال کے مواد (CSAM) کی نشاندہی اور تفتیش کے لیے ہیں۔ NCCIA لاہور کے ایڈیشنل ڈائریکٹر عاطف امیر نے عوامی طور پر تصدیق کی کہ AI معاون تجزیہ نے گوجرانوالہ میں ایک مشتبہ شخص کی نشاندہی میں مدد کی ہے اور اس کی گرفتاری ہوئی ہے۔

مزید یہ کہ پاکستان نے برطانیہ کے تعاون سے "Katalyst” نامی AI تفتیشی نظام متعارف کرایا ہے، جو خاص طور پر بچوں کے جنسی استحصال کے مواد کی کارروائی کے لیے ہے، جس کا مقصد NCCIA کی NCMEC (امریکی قومی گمشدہ اور استحصال شدہ بچوں کا مرکز) سے موصول ہونے والے ریفرل کی کارروائی کی صلاحیت کو ماہانہ تقریباً 1,200 سے بڑھا کر 100,000 سے زیادہ کرنا ہے۔

آسان الفاظ میں: AI کا استعمال "بچوں کی حفاظت” کے لیے ہے، "آپ کی چیٹ سننے” کے لیے نہیں۔ یہ نظام مخصوص غیر قانونی مواد کی نشاندہی کرتا ہے، نہ کہ میاں بیوی کی روزمرہ کی گفتگو یا منگنی شدہ جوڑوں کی نجی بات چیت۔

NCCIA کے قانونی اختیارات: بغیر وارنٹ کے کچھ نہیں

پاکستان کے PECA قانون کے تحت، NCCIA کو موبائل فون تلاش کرنے یا ڈیٹا تک رسائی حاصل کرنے کے لیے عدالت سے وارنٹ لینا لازمی ہے۔

  • وارنٹ کی ضرورت: تفتیشی افسر کو عدالت میں معقول بنیاد پیش کرنی ہوتی ہے، عدالت منظوری دے تو وارنٹ جاری ہوتا ہے، اور کارروائی کے 24 گھنٹے کے اندر عدالت کو آگاہ کرنا ہوتا ہے۔
  • پاس ورڈ دینے کی ضرورت نہیں: اگر وارنٹ نہیں ہے تو آپ کو فون ان لاک کرنے یا پاس ورڈ دینے کی ضرورت نہیں۔ اگر وارنٹ ہے تو اس میں تلاشی کی حدود واضح ہونی چاہیے، اور آپ کو وکیل سے مشورہ کرنے کا حق ہے۔
  • واٹس ایپ "نگرانی” ممکن نہیں: واٹس ایپ میں اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن ہے، NCCIA کے پاس براہ راست آپ کی چیٹس "سننے” کی تکنیکی صلاحیت نہیں ہے۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) نے بھی واضح طور پر بڑے پیمانے پر واٹس ایپ نگرانی کی افواہوں کی تردید کی ہے، اور ڈیجیٹل حقوق کے ماہرین نے تصدیق کی کہ اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کی وجہ سے بڑے پیمانے پر نگرانی ناقابل عمل ہے۔

NCCIA کب کارروائی کرتا ہے؟

ایک اہم حقیقت جو بہت سے لوگ نہیں جانتے: NCCIA خودکار طور پر ہر شہری کے موبائل فون کی گیلری یا چیٹس کی اسکیننگ نہیں کرتا۔ اس کا کام کا طریقہ کار شکایت پر مبنی ہے۔

اس کا مطلب ہے: جب تک کوئی تیسرا فریق (متاثرہ شخص خود، یا کوئی شخص جسے نقصان پہنچا ہو) NCCIA کے پاس نہ آئے اور باضابطہ شکایت درج نہ کرائے اور متعلقہ شواہد فراہم نہ کرے، NCCIA عام طور پر کسی کے ڈیٹا کی تحقیقات شروع نہیں کرے گا۔ شکایت درج کرنے کے طریقے یہ ہیں: آن لائن پورٹل کے ذریعے جمع کرانا، مقامی دفتر میں شکایت فارم جمع کرانا، یا سرکاری ہیلپ لائن (1799) پر کال کرنا۔

NCCIA نے "E-Kachehri” (آن لائن کھلی عدالت) کا طریقہ کار بھی قائم کیا ہے، ڈائریکٹر جنرل ویڈیو یا ٹیلی فون کے ذریعے براہ راست شہریوں کی شکایات سنتے ہیں۔ تلاش کے نتائج کے مطابق، E-Kachehri میں موصول ہونے والی شکایات میں مالی دھوکہ دہی، سوشل میڈیا ہراسانی وغیرہ شامل ہیں، ڈائریکٹر جنرل نے خاص طور پر خواتین کو آن لائن ہراسانی سے بچانے پر زور دیا، اور متعلقہ افسران کو "زیرو ٹالرنس” پالیسی سختی سے نافذ کرنے اور ترجیحی بنیادوں پر تفتیش کا حکم دیا۔

لیکن توجہ دیں: "سماعت” کا مطلب "فوری گرفتاری” نہیں ہے۔ E-Kachehri میں، NCCIA شکایت کنندہ کی بات سنتا ہے، معاملے کی نوعیت کا جائزہ لیتا ہے، پھر فیصلہ کرتا ہے کہ مزید شواہد یا معلومات درکار ہیں یا نہیں۔ اگر شواہد ناکافی ہیں (مثلاً صرف زبانی بیان، کوئی اسکرین شاٹ، لنک یا رابطہ معلومات نہیں)، تو وہ شکایت کنندہ سے مزید مواد فراہم کرنے کو کہیں گے، پھر فیصلہ کریں گے کہ تفتیش شروع کی جائے یا نہیں۔ بغیر کسی قسم کے شواہد کے، وہ کسی کے خلاف کارروائی نہیں کریں گے۔

لہذا، اگر آپ کے پاس کوئی غیر قانونی مواد نہیں ہے، اور کسی نے آپ کے خلاف سائبر جرائم کی شکایت نہیں کی ہے، تو آپ کو فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں کہ NCCIA "ہر وقت آپ کو دیکھ رہا ہے”۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ "ہر کوئی نگرانی میں ہے” وہ دراصل ایک ایسے ادارے کے کام کے طریقہ کار کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں جسے وہ نہیں سمجھتے۔

"میاں بیوی کی نجی بات چیت” کے بارے میں

اگر آپ کے پاس کوئی غیر قانونی چیز نہیں ہے (جیسے بچوں سے متعلق غیر قانونی مواد)، تو NCCIA بے ترتیب طور پر آپ تک نہیں پہنچے گا۔ وہ ہر شہری کی گیلری اسکین نہیں کرتے۔

میاں بیوی کے درمیان باہمی رضامندی سے نجی گفتگو، جب تک کہ کسی تیسرے فریق کو نقصان نہ پہنچے یا بلیک میلنگ میں استعمال نہ ہو، عام طور پر قانونی کارروائی کا نشانہ نہیں بنتی۔ لیکن اگر نجی تصاویر یا چیٹس کسی تیسرے فریق کو بھیجی جائیں یا بلیک میلنگ کے لیے استعمال ہوں، تو یہ PECA کے تحت جرم ہے۔

اصل خطرہ کہاں ہے؟

آپ کا سب سے بڑا خطرہ NCCIA نہیں، بلکہ جعلی قرض ایپس ہیں۔ جو بھی ایپ ڈاؤن لوڈ کریں اور وہ "گیلری” یا "رابطوں” تک رسائی کی اجازت مانگے، ہرگز اجازت نہ دیں۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے مجرم فائدہ اٹھاتے ہیں۔

اپنے موبائل کو کیسے محفوظ بنائیں؟

  1. غیر قانونی ایپس نہ انسٹال کریں: کوئی بھی ایپ جو گیلری یا رابطوں تک رسائی مانگے، اجازت نہ دیں۔
  2. ٹو فیکٹر اتھنٹیکیشن (2FA) کو ہر اکاؤنٹ پر فعال کریں۔
  3. مشکوک لنکس پر کلک کرنے سے گریز کریں۔
  4. VPN کا استعمال کریں، خاص طور پر پبلک وائی فائی پر۔

خلاصہ

NCCIA نے واقعی AI اداروں کے ساتھ معاہدوں پر دستخط کیے ہیں، لیکن مقصد بچوں کے جنسی استحصال کے مواد سے نمٹنا ہے، نہ کہ عام شہریوں کی چیٹ کی نگرانی۔ NCCIA آپ کی گیلری کی خفیہ نگرانی نہیں کر رہا۔ جو لوگ یہ کہہ کر خوف پھیلا رہے ہیں کہ "آپ کی گیلری میں موجود ہر چیز دیکھی جا سکتی ہے”، ان کی باتوں کو نہ مانیں۔ اصل خطرہ جعلی قرض ایپس ہیں، جو آپ خود ڈاؤن لوڈ کرتے ہیں اور وہ گیلری کی اجازت مانگتی ہیں۔ بس ایسی ایپس ڈاؤن لوڈ نہ کریں، اور آپ محفوظ رہیں گے۔

By Goshy_ Writes

گوشے رائٹس پر پڑھیے بزنس، ٹیکنالوجی، کھیلوں کی اپ ڈیٹس، اور ہر شعبے سے جڑی تازہ ترین خبریں اور دلچسپ معلومات۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے